کسی دیوانے کا دیوانہ سفر جاری ہے

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 7
کبھی سسکی کبھی آوازہ، سفر جاری ہے
کسی دیوانے کا دیوانہ سفر جاری ہے
تھک کے بیٹھیں تو کہیں ہاتھ وہ چھڑوا ہی نہ لے
بس اسی خوف میں ہی اندھا سفر جاری ہے
یہ جو آگے کی طرف پاؤں نہیں اٹھتے مرے
اپنے اندر کی طرف میرا سفر جاری ہے
کتنی ہی منزلیں پا کر بھی تسلی نہ ہوئی
میرے بل بوتے پہ قسمت کا سفر جاری ہے
کچھ مہینے تو ہمیں جاگ کے ہی چلنا پڑا
کچھ مہینوں سے یہ خوابیدہ سفر جاری ہے
جس کو بھی چلتا ہوا دیکھیں سو چل پڑتے ہیں
کیوں وقار اپنا یہ ان دیکھا سفر جاری ہے
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s