عشق ہو جائے تو چہرے نہیں دیکھے جاتے

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 5
من کی مے ہو تو پیالے نہیں دیکھے جاتے
عشق ہو جائے تو چہرے نہیں دیکھے جاتے
میں بگڑتے ہوئے بچوں کو بھی کب ڈانٹتا ہوں
مجھ سے روتے ہوئے بچے نہیں دیکھے جاتے
حملہ آور کو میں اب خود ہی ریاست دے دوں
اپنے لوگوں پہ یہ حملے نہیں دیکھے جاتے
تیرنا آتا ہے تو چھوڑ مجھے تُو تو نکل
موقع ایسا ہو تو وعدے نہیں دیکھے جاتے
اس کی خاموشی اندھیرے کا سبب بنتی ہے
مجھ سے اب اور اندھیرے نہیں دیکھے جاتے
اپنے کشمیری لبوں سے تُو گرا شرم کے بند
ڈوبنے وقت کنارے نہیں دیکھے جاتے
میں کوئی ہاتھ بھی تھاموں تو یہ دل تھمتا ہے
مجھ سے قسمت کے ستارے نہیں دیکھے جاتے
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s