میں اس زمین پہ پاؤں بھی رکھنے والا نہیں

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 4
جہاں عَلَم کی کوئی قدر اور حوالہ نہیں
میں اس زمین پہ پاؤں بھی رکھنے والا نہیں
میں اس درخت کے اندر تھا جس کو کاٹا گیا
کسی نے بھی تو وہاں سے مجھے نکالا نہیں
وہ اپنے عہد سے آگے کی باتیں کرنے لگا
بہکتے شخص کو دنیا نے پھر سنبھالا نہیں
ہر ایک چوٹ پہ کچھ اور جڑنے لگتا تھا
سو اس نے مجھ کو کسی شکل میں بھی ڈھالا نہیں
عجیب خوف میں پروان چڑھ رہی ہے یہ نسل
کسی کے ہاتھ میں بھی زہر کا پیالہ نہیں
اب اپنی سانسوں سے زنجیر توڑنی ہے مجھے
کہ ہاتھ بیچنے کا اور کچھ ازالہ نہیں
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s