اس کو سرائیکی زباں میں نے سکھائی تھی

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 2
وہ ذمہ داری کتنی خوشی سے نبھائی تھی
اس کو سرائیکی زباں میں نے سکھائی تھی
میں نے جہانِ پیاس کو سیراب کر دیا
دریا کی ایک لہر مرے ہاتھ آئی تھی
جنگِ عرب میں چھوڑ گئے جب حمایتی
کوفہ کے اک جواں نے مری جاں بچائی تھی
عورت سے بحث کرنا سمجھتا تھا اپنی ہتک
اور نظریاتی لڑکی بھی دل میں بسائی تھی
ایمان کا حساب بھی رکھنا پڑا ہمیں
ذاتی بھلائی میں ہی خدا کی بھلائی تھی
وادی میں ہر سو اگنے لگے پانیوں کے پھول
چشمے پہ کوئی حسن بھری آ نہائی تھی
میں نے چنے ہیں اپنی ہی مرضی کے چند پل
ورنہ تو میرے حصے میں پوری خدائی تھی
شاید کہ ایک رات کے بعد اور رات ہو
سپنے میں اک جدائی کے بعد اور جدائی تھی
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s