کچھ اور مانگ جان سے پیاروں کے بعد بھی

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 1
بے مثل و بے حساب اجالوں کے بعد بھی
کچھ اور مانگ جان سے پیاروں کے بعد بھی
کیا سوچ روشنی سے زیادہ ہے تیز رو
ہم بند رہ سکے نہ فصیلوں کے بعد بھی
تصویر سے زیادہ تصور کی عمر ہے
کچھ خواب زندہ رہتے ہیں آنکھوں کے بعد بھی
پھر خوف سے بے فکر ہی کرنا پڑا اسے
بدلی نہ میری قوم عذابوں کے بعد بھی
چاہو اگر امان تو حاضر ہے میرا دل
مضبوط ہے یہ قلعہ دراڑوں کے بعد بھی
اقلیتوں کے جیسے خدا کی طرح ہیں ہم
ثابت نہ ہو سکے جو حوالوں کے بعد بھی
قیدی محبتوں پہ یقیں کس طرح رکھیں
ملتی ہے کب رہائی سزاؤں کے بعد بھی
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s