یہ ایک شمعِ سخن ہم نے جو جلائی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
ضیائے دہر، اندھیروں میں کھینچ لائی ہے
یہ ایک شمعِ سخن ہم نے جو جلائی ہے
کوئی کوئی ہے خُلیفہ خُدا کا ایسا بھی
تمام خلق میں جس کے سبب دُہائی ہے
مِلا ہے زاغ کو ٹُکڑا کہیں سے روٹی کا
اور ایک جُھنڈ کی اُس ایک پر چڑھائی ہے
بہ حقِ ہم نفساں ہے جو شر، یہ انساں ہے
کہ کل بھی جس نے قیامت نئی اُٹھائی ہے
نجانے کتنے دھڑوں میں ہے منقسم ٹھہری
وُہ نسل، روزِ ازل سے جو بھائی بھائی ہے
لگا رہا ہے تُو کیوں اِس کو داؤ پر ماجِد!
یہ آن ہی تو تری زیست کی کمائی ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s