یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
سُوکھا پتّا یا میں اُڑتا پر ٹھہروں
یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں
اپنے آپ میں رہنا ہی کیا ٹھیک نہیں
آسمان کا میں کیوں کر ہمسر ٹھہروں
کُوچۂ حرص میں اپنی خیر منانے کو
خیر کا مدِمقابل ٹھہروں، شر ٹھہروں
خبر خبر ہیں چَوکھٹے نت نت ماتم کے
سوچتا ہوں کس کس کا نوحہ گر ٹھہروں
مثلِ صبا اپنا جی بھی بس چاہے یہی
غنچہ غنچہ چٹکوں، پیغمبر ٹھہروں
کسے خبر کل نطق کے ناطے نگر نگر
میں بے قیمت بھی گنجینۂ زر ٹھہروں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s