ہم جنہوں نے آنکھ کھولی جابروں کے درمیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ہو چکے جاگیر سی پیرون شہوں کے درمیاں
ہم جنہوں نے آنکھ کھولی جابروں کے درمیاں
یوں تو دیواریں ہیں اِن ساروں باہم متّصل
فاصلے بڑھنے لگے۔۔لیکن گھروں کے درمیاں
جس جگہ اہلِ نظر کو وہ نظر آیا کیا
وہ جگہ ہے منروں کے مسجدوں کے درمیاں
رہ بہ رہ جیسے خبر ہو گرم آدم خور کی
ایک سی ہے کھلبلی سب قافلوں کے درمیاں
رہبروں کے جال میں یوں خلق ہے صیدِ ہوس
مغویہ جیسے گھری ہو شاطروں کے درمیاں
فیصلہ کرنے کو ماجِد کون منصف آئے گا
مسئلہ اُلجھا ہوا ہے سَرپِھروں کے درمیاں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s