کچھ نہ کر اور بس فساد اُٹھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
دہر کا خود سے اعتماد اٹھا
کچھ نہ کر اور بس فساد اُٹھا
بارِ تشویش تیرے ذہن میں ہے
کم اُٹھا چاہے تو زیاد اُٹھا
دیکھ تجھ پاس حرفِ نرم تو ہے
در سے سائل کو بامراد اُٹھ
دور ہے آسماں زمیں ہی پہ رہ
ہاں اُٹھا نازِ خاک زاد اُٹھا
بزم میں لب نہ اپنے کھینچ کے رکھ
نطقِ خوش کُن پہ حرفِ داد اُٹھا
بانٹ ماجِد سکونِ دل ہر سو
واہموں کے نہ کردباد اُٹھا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s