واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
اِک اِک قدم پہ ہے نئی ایجاد کیا کہیں
واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں
صحرا میں جیسے کوئی بگولہ ہو بے مُہار
ہم آپ ہیں کُچھ ایسے ہی آزاد کیا کہیں
ہم مطمئن ہیں جس طرح اینٹوں کو جوڑ کر
یوں بھی کبھی ہوئے نگر آباد کیا کہیں
ہم نے تو کوہِ جُہل و کسالت کیا ہے زیر
کہتے ہیں لوگ کیوں ہمیں فرہاد کیا کہیں
باٹوں سے تولتے ہیں جو پھولوں کی پتّیاں
حق میں ہمارے فن کے وہ نقّاد کیا کہیں
ہم جنس اوجِ تخت سے لگتے ہیں کیوں حقیر
ماجِد یہ ہم کہ جو نہیں شہ زاد کیا کہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s