مہ کا اثر بھی مہر کی ضَو پر پڑ سکتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
کم اوقات بھی زور آور سے اکڑ سکتا ہے
مہ کا اثر بھی مہر کی ضَو پر پڑ سکتا ہے
بے غیرت کو اپنے کیے پہ ملال کہاں کا
غیرت مند ہی شرم سے خاک میں گڑ سکتا ہے
سُوکھ کے برگِ گلاب بھی نوکیلا ہو جائے
ہونٹوں میں جو، اُلجھ سکتا ہے، اَڑ سکتا ہے
کام میں لانے کی تنظیم کی بات ہے ساری
دام کا دھاگا شیر تلک کو جکڑسکتا ہے
کرتا ہے فریاد کی لَے وُہ سپرد ہَوا کے
پتّا ورنہ بِن لرزے بھی جھڑ سکتا ہے
آب میں اُترا چاند کسی سے نہ ساکن ٹھہرے
اور پہاڑ بھی اپنی جگہ سے اُکھڑ سکتا ہے
شرط اگر ہے تو وہ مالی کی نااہلی
ماجِد جس سے باغ کا باغ اُجڑ سکتا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s