فیض یہ اب پڑھائیوں کے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
دِن ہیں جو بِن کمائیوں کے ہیں
فیض یہ اب پڑھائیوں کے ہیں
پیڑ پر، لوحِ بخت پر، انداز
اپنے اپنے لکھائیوں کے ہیں
درد جھیلے ہیں کتنے ماؤں نے
راز یہ پاس دائیوں کے ہیں
زرد پتّے یہی کہیں باہم
اگلے موسم جدائیوں کے ہیں
یُوسف آسا ہر اِک گُنی جانے
کیسے برتاؤ بھائیوں کے ہیں
رہنما کب کہیں کہ اُن سب کے
جو چلن ہیں قصائیوں کے ہیں
ہم کہ ٹھہرے فراز جُو ماجِد
یہ کرم ہم پہ کھائیوں کے ہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s