شاخ پر کِھل کے گلابوں نے بکھر جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
بیٹیاں دھن ہے پرایا اِنہیں گھر جانا ہے
شاخ پر کِھل کے گلابوں نے بکھر جانا ہے
ہم کہ ہیں باغ میں پت جھڑ کے بکھرتے پتّے
کون یہ جانتا ہے کس کو کدھر جانا ہے
ڈھل بھی سکتا ہے جو سورج ہے سروں پر سُکھ کا
کانپ کانپ اُٹھنا ہے،یہ سوچ کے ڈر جانا ہے
گرد ہی لکھی ہے پیڑوں کے نصیبوں میں جنہیں
پل دو پل موسمِ باراں میں نکھر جانا ہے
آخرِ کار دکھائی نہ وُہ دے بُھوت ہمیں
ہم نے جس شخص کو رستے کا شجر جانا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s