ستم شعار دُعاؤں سے کب ٹھکانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
بدل کے روپ نئے، اور دندنانے لگے
ستم شعار دُعاؤں سے کب ٹھکانے لگے
سنا جو قطعِ شبِ رُوسیہ کا مژدہ
چٹک چٹک کے شگوفے بھی چہچہانے لگے
عتابِ ابر تو لمحوں سے مستزاد نہ تھا
شجر کو ڈھانپتے اپنا بدن زمانے لگے
بجے ہیں روز ہتھوڑے نئے سماعت پر
بجا کہ تن پہ ہمارے نہ تازیانے لگے
جو اُن کے نام تھا کوتاہ قامتی کے سبب
اُچھل اُچھل کے سقم خود ہی وہ دکھانے لگے
ہُوا کچھ ایسے کہ زینے تہہِ قدم لا کر
جو پست قد ہیں وہ نیچا ہمیں دکھانے لگے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s