خوں میں وہ جوشِ اشتیاق کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
جی سے جانے کا اتفاق کہاں
خوں میں وہ جوشِ اشتیاق کہاں
سادہ لوحی میں حضرتِ آدم
طاق ہوں گے پہ ہم سے طاق کہاں
ہم کہ یک جہتیوں کے داعی ہیں
خلق میں ہم سا ہے نفاق کہاں
آئنے میں ذرا سا بال آیا
بات گزری ہے دل پہ شاق کہاں
کیا خبر کہہ کے ناخلف ماجدؔ
وقت کر دے ہمیں بھی عاق کہاں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s