تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
شاخ پہ برگِ زرد ہی کیوں ٹھہرائے مجھے
تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے
بادل میرے نام اُمڈ کے نہ برسے جو
ڈال کے لیت و لعل میں کیوں ترسائے مجھے
میری ولی عہدی کیونکر تسلیم نہیں
بات یہ بس دربار کی ہے کھولائے مجھے
پل پل جس کی میں نے خیر طلب کی ہے
خلق بھی کچھ تو میرا دیا لوٹائے مجھے
مجھے ملے پھل میرے سینچے پودے کا
اور نہ ملے تو چَین بھلا کیوں آئے مجھے
اپنے لفظ ہی ٹھہریں پُھونک مسیحا کی
ایسا کون ہے ماجِد جو سہلائے مجھے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s