آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
جو بھی بہ زور و مکر ہے والیٔ تخت ہُوا
آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا
اِک آمر ایسا بھی ہمِیں نے دیکھا جو
خبطِ مسیحائی کے سبب صد لخت ہُوا
مجبوروں نے جبر سہا تو جابر کا
ہوتے ہوتے اور رویّہ سخت ہُوا
ہم ٹھہرے مُحتاج تو برق و رعد ایسا
موسم کا لہجہ کُچھ اور کرخت ہُوا
خود ہی نکلے ہر مشکل ہر علّت سے
ماجد ہم سوں کا شافی کب بخت ہُوا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s