وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
اب خُدا سے بھی مجھے کہنے میں یہ، کُچھ ڈر نہیں
وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں
نیّتیں بھی جب نہیں ہیں صاف، نظریں بھی علیل
کب یہ مانیں ہم کہ خرمن میں کوئی اخگر نہیں
جانے کیا ہے جو بھی رُت بدلے رہے رنگ ایک سا
حال جو پہلے تھا،اُس سے اب بھی کُچھ بہتر نہیں
بس فقط اُلٹا ہے تختہ اور کُچھ جانیں گئیں
بہرِ غاصب،فرق یُوں ہونے میں ذرّہ بھر نہیں
بچپنے سے رگ بہ رگ تھا جو رچاؤ لُطف کا
دیس کے اندر بہت ہے،دیس سے باہر نہیں
آخرش ایسا ہی ماجِد ہر کہیں ہو گا رقم
تُم نے اپنا نام کب لکّھا بہ آبِ زر نہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s