کس زباں سے کسی سے کہیں وہ ہیں مسافر وہ کن دلدلوں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
حرص و نخوت کے اندھے نگر میں باپ ہیں جو جواں بیٹیوں کے
کس زباں سے کسی سے کہیں وہ ہیں مسافر وہ کن دلدلوں کے
شاخچوں کا جو اندوختہ تھا رس وہ چوسا ہے حبسِ زمیں نے
دھوپ ابکے چھتوں پر وہ اُتری پھول کملا گئے آنگنوں کے
خون میں خوف کی آہٹیں ہیں جسم در جسم کھولاہٹیں ہیں
ایک ہلچل سی اعصاب میں ہے ذہن مرکز ہیں یوں زلزلوں کے
شہرِ خفتہ کی گدلی فضا میں جانے کیا کیا دکھائی دیے ہیں
چشمِ بیدار میں چبھنے والے تُند کنکر نئے رتجگوں کے
زندگی دشتِ تاریک میں ہے جیسے بھٹکا ہوا شاہزادہ
جس کے ہر کُنج میں ایستادہ دیو ہیں نو بہ نو الجھنوں کے
وہ خودی ہو کہ خود انحصاری محض خوش فہمیاں ہیں کہ ہم نے
ہاتھ مصروف دیکھے ہیں جو بھی اُن میں پائے تھے بیساکھیوں کے
اِن مکینانِ فردوس پر بھی جیسے دوزخ کے در کھُل چلے ہوں
دِن بُرے آنے والے ہیں ماجد باغ میں سارے کچّے پھلوں کے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s