چراغ بجھنے پہ آئے تو پھڑپھڑائے بہت

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دمِ زوال ، رعونت زباں پہ لائے بہت
چراغ بجھنے پہ آئے تو پھڑپھڑائے بہت
یہی تو ڈُوبتے سُورج کا اِک کرشمہ ہے
بڑھائے قامتِ کوتاہ تک کے، سائے بہت
قلم کے چاک سے پھوٹے وہ، مثل بیلوں کے
جو لفظ ہم نے زباں کے تلے دبائے بہت
ستم ستم ہے کوئی جان دار ہو اُس کو
نگل کے آب بھی اِک بار تھرتھرائے بہت
ہمارے گھر ہی اُترتی نہ کیوں سحر ماجد
تمام رات ہمِیں تھے جو کلبلائے بہت
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s