پو پھٹے تھی ہوا کو شکایت یہی، لوگ سوئے ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
نشۂ بے حسی تھی کہ نا آگہی لوگ سوئے ملے
پو پھٹے تھی ہوا کو شکایت یہی، لوگ سوئے ملے
روشنی کے سفیروں نے کیا کیا نہ گُر آزمائے مگر
سینہ سینہ بسائے ہوئے گمرہی لوگ سوئے ملے
زمزمے چہچہے کوئی تریاق ان کے نہ کام آ سکا
سم کچھ ایسی تھی سانسوں میں اِن کے گھلی لوگ سوئے ملے
صبح، پرچم لپیٹے ہوا ہو گئی اپنے سندیس کا
پھول نے جو کہی رہ گئی ان کہی لوگ سوئے ملے
بادباں کھول کر کشتیوں کے، ہوا کو انہیں سونپ کر
اور تو اور آغوشِ دریا میں بھی لوگ سوئے ملے
جانے حلقۂ بگوشی میں تھا کیا شرف، جو انہیں بھا گیا
جاگتا تھا فقط جذبۂ بندگی لوگ سوئے ملے
کتنے تھوڑے صلے سے بہلنے لگیں ان کی نادانیاں
رسم ماجدؔ یہ کیا اکتفا کی چلی لوگ سوئے ملے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s