نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
وراثت میں اِنہیں ملنے لگیں عیّاریاں کیا کیا
نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا
کوئی فتنہ کوئی لاشہ اِنہیں مل جائے شورش کو
برائے تخت، نا اہلوں کی ہیں تیّاریاں کیا کیا
ارادت کے تسلسل کی، غلامانہ اطاعت کی
ہماری گردنوں کے گرد بھی ہیں دھاریاں کیا کیا
نمو بھی دیں، تحفّظ بھی کریں ہر پیڑ کا لیکن
جھڑیں تو نام پتوں کے، رقم ہوں خواریاں کیا کیا
جنہیں درکار ہیں قالین چلنے کو نجانے وہ
کرائیں گے لہو سے خاک پر، گُلکاریاں کیا کیا
حقائق سے ڈرانے کو، طلسمِ شر دکھانے کو
سرِ اخبار ماجدؔ نقش ہیں، چنگاریاں کیا کیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s