سورج نے کھُلی آنکھ سے ہے کم ہمیں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
شاخیں یہی کہتی ہیں، نہ بے دم ہمیں دیکھا
سورج نے کھُلی آنکھ سے ہے کم ہمیں دیکھا
ژالوں سے بچے ہیں تو ہوا نوچنے آئی
اِس خاک نے ہر حال میں برہم ہمیں دیکھا
ہر دیکھنے والے نے دھند لکوں میں حسد کے
مہتابِ سرِ صبح سا، مدّھم ہمیں دیکھا
ماجد ہوئے ہم اوس ، گیاہِ لبِ جو کی
ہر شخص نے ندیا ہی میں مدغم ہمیں دیکھا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s