حبس پہنچا ہے کس اَوج پر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
سانس روکے کھڑے ہیں شجر دیکھنا
حبس پہنچا ہے کس اَوج پر دیکھنا
خرمنوں میں ہوئیں جن کی بیجائیاں
پھولنے کو ہیں اب وہ شرر دیکھنا
لیس کر کے ہمیں رختِ بارود سے
بھیجتا ہے کدھر؟ رہبر دیکھنا
کھور ہی دے بدن کو نہ آنکھوں کی نم
دیکھنا ماجدِ بے خبر دیکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s