اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ٹھہرے جو بھسم ، مِلکِ ستم گار نہیں تھے
اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے
اب کے بھی پرندے وُہی ، ژالوں میں سڑے ہیں
جو ابر کی خصلت سے خبردار نہیں تھے
الزام محافظ پہ بھی تھا کچھ تو ، نقب کا
افراد اگر شہر کے بیدار نہیں تھے
رکھتے تھے مہک پاس جو ماجد کے ہنر کی
جھونکے تھے ، کچھ اُس کے وہ طرفدار نہیں تھے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s