کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں
کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں
ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے
سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں
وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے
ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں
شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں
اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں
زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں
ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں
چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا
جبیں پہ اہلِ وفا کی، تناؤ جیسے ہیں
جو ہم ہوئے بھی تو کیا ، یوسفِ سخن ماجد
عیاں ہیں سب پہ ہم ایسوں کے بھاؤ جیسے ہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s