کس کا نوحہ کون کب لکِھے یہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں
کس کا نوحہ کون کب لکِھے یہاں
ظاہری عنوان اکِ دینِ مبیں
اور اندر ہیں کئی شجرے یہاں
سب کے سب خود کو جِلا دیتے رہے
ہیں مسیحا جس قدر اُترے یہاں
اپنی قامت پر قد آور سب خفیف
ذی شرف ہیں سب کے سب بَونے یہاں
ہم سے جو کھیلے وہ ماجد اور ہے
ہم سبھی ہیں تاش کے پتّے یہاں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s