کب کھڑی کھیتیاں پھر اُجڑنے لگیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کب مہاجن نجانے بگڑنے لگیں
کب کھڑی کھیتیاں پھر اُجڑنے لگیں
منصفوں میں بھی ہے پھُوٹ یوں عدل پر
سوتنیں جیسے باہم جھگڑنے لگیں
کیا خبر مان لیں کیا، خداوند اور
کون سی بات پر آ کے اَڑنے لگیں
پھر نہ ماجد بدن زد پہ ژالوں کی ہوں
پھر نہ پہلی سے کھالیں اُدھڑنے لگیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s