میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
رہن جن کے عوض ہو متاعِانا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں
میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں
دیر تھی گر تو اتنی کہ نکلے نہ تھے بال و پر اور جب یوں بھی ہونے لگا
فصل کٹنے پہ کھیتوں سی اُجٹری ہوئی کیا سے کیا کچھ نہ رنجور مائیں ملیں
بخت کسبِ سعادت میں بھی کیا کہوں صیدِ اضداد ٹھہرا ہے کچھ اِس طرح
دیس ماتا کی خفگی سے رد ہو گئیں ماں کی جا نب سے جتنی دعائیں ملیں
شور ہے باد و باراں کا چاروں طرف حشر زا لمحہ لمحہ مسافت کا ہے
کاغذی جن کے ڈھانچے ہیں ماجد ہمیں سر چھپانے کو ہیں وہ سرائیں ملیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s