ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا
ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا
یہ ہم کہ گھونسلے جن کے ہیں زد پہ طوفاں کی
لٹے گا چین ہمِیں سے خراب حالوں کا
بہم پناہ ہمیشہ جنہیں ہے غاروں کی
پھرا ہے اُن کی طرف رخ کہاں اجالوں کا
دیا تو دینا پڑے گا ہمیں بھی لمحوں میں
ہمارے نام ہے جو جو حساب سالوں کا
کھُلا تو ہاتھ لگائیں گے سارے کانوں کو
چمن میں حال ہے ماجد جو با کمالوں کا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s