دریا میں جتنا زور تھا پل میں اُتر گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا
دریا میں جتنا زور تھا پل میں اُتر گیا
دیکھی جب اپنی ذات پہ آتی ذرا سی آنچ
وہ بدقماش اپنے کہے سے مُکر گیا
آخر کو کھینچ لایا وہ سورج سرِ افق
جو جیش جگنوؤں کا بسوئے سحر گیا
خود اُس کا اَوج اُس کے توازن کو لے اڑا
نکلا ذرا جو حد سے تو سمجھو شجر گیا
جس کو بقا کا راز بتانے گیا تھا میں
سائل سمجھ کے وہ مری دستک سے ڈر گیا
کربِ دروں سے، اشکِ فراواں کے فیض سے
چہرہ کچھ اب کے اور بھی ماجد نکھر گیا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s