خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں
ساحل کو چھو لینے پر بھی سفلہ پن دکھلانے کو
دریاؤں نے کیا کیا موجیں اب کے اور اچھالی ہیں
گلیوں گلیوں دستک دیتے، امن کی بھیک نہ ملنے پر
دریوزہ گر کیا کیا آنکھیں، کیا کیا ہاتھ سوالی ہیں
اُس کا ہونا مان کے، اپنے ہونے سے انکار کریں
جابر نے کچھ ایسی ہی شرطیں ہم سے ٹھہرا لی ہیں
حرف و زبان کے برتاؤ کا ذمّہ تو کچھ میر ہی لیں
ہاں جو بایتں ہم کہتے ہیں وہ ساری ٹیکسالی ہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s