باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے
مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی
آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے
کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر
پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے
بے بصر کرنے لگی ماجدؔ گماں کی تیرگی
خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s