اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
شبِ سیہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے
ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا
ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے
جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی
یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے
زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے
یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے
نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے
کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے
بڑھائیں مکر سے کیا ربط، جی جلانے کو
یہ ہم کہ جن کا یقیں ہی فقط نباہ میں ہے
نہ اور کچھ بھی سہی نام ہے ہمارے ہی
جلال جتنا بھی ماجدؔ مزاجِ شاہ میں ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s