ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہم بدگماں ہوں پیار سے ایسے بھی ہم نہیں
ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں
پُھولوں تلک سفر ہی جب اپنا ہے مدّعا
ڈر جائیں خار زار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
اک اور بھی جنم ہو تو دیکھیں گے رہ تری
ٹھٹکیں ہم انتظار سے ایسے بھی ہم نہیں
خُو ہے جو سر بلندیٔ سر کی ہمیں ۔۔ اِسے
بدلیں گے انکسار سے ایسے بھی ہم نہیں
جاناں !ترا وہ تیرِ نظر ہو کہ تیغِ غیر
جھجکیں کسی بھی و ار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s