اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم تمہیں مہ کے برابر دیکھتے
اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے
جھانکتے اِک بار گر تم بام سے
دل میں برپا ہم بھی محشر دیکھتے
ہاں تمہارا لمس گر ہوتا بہم
سرسراتی ہاتھ میں زر دیکھتے
موج جیسے سبزۂ ساحل پہ ہو
تم ہمیں خود پر نچھاور دیکھتے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s