لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
سچّے ہو گر تو اور نہ آنکھیں چُرائیے
لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے
کیو ں وقتِگفتگو ہے نگاہوں میں اضطراب
زیرِ زباں ہے جو وہ زباں پر بھی لائیے
میں پُھول بھی ہوں گر تو بگولوں کی زد پہ ہوں
میں کھو چکا حواس مرے منہ نہ آئیے
کھینچے جو اپنی سمت اُنہیں بھی جو دُور ہیں
ایسا بھی کوئی پُھول سرِ لب کِھلائیے
لَو دے اٹھے گلاب نہ آخر سرِحجاب
اس طور بھی نہ روئے درخشاں چھپائیے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s