دل کا ہر خواب سورج مکھی بن گیا پُھول کھلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
جب کبھی میری جانب ترا رُخ پھرا پُھول کھلنے لگے
دل کا ہر خواب سورج مکھی بن گیا پُھول کھلنے لگے
چاپ میں تیرے قدموں کی پیغام تھا جانے کس کشف کا
تیری آمد کا جب بھی چلا ہے پتا پُھول کھلنے لگے
دیر اتنی تھی مائل ہوئی جب صبا تیرے الطاف کی
صحنِخواہش کے ہر کنج میں جا بجاپھول کھلنے لگے
پھر کہاں کی خزاں تیری خاموشیاں جب چٹکنے لگیں
دفعتاً سن کے سندیس و جدان کا پُھول کھلنے لگے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s