جاناں! قریب آؤگھٹا بھی ہے مے بھی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
بن کے نشہ سا چھاؤ گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
جاناں! قریب آؤگھٹا بھی ہے مے بھی ہے
آنکھیں ملیں تو مستیاں پھیلیں چہارسو
موسم کو شہ دلاؤ گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
جتنی بھی چھا چکی ہیں بدن پر رُتیں اُجاڑ
اُن پر نکھار لاؤ گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
رہ جائے بُجھ کے قلب و نظر میں ہے جو بھی پیاس
گاؤ ملہار گاؤ ،گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
بندش سی کیا یہ دِید پہ، باہم ملن پہ ہے
جادو کوئی جگاؤ گھٹابھی ہے مے بھی ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s