شہرِ خوباں سے کوئی اچّھی خبر آتی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خواب میں آئے بہ دستِ نامہ بر آتی نہیں
شہرِ خوباں سے کوئی اچّھی خبر آتی نہیں
چہچہاتی ہیں تمنّاؤں کی چڑیاں چار سُو
شب بھی کچھ گہری نہیں لیکن سحر آتی نہیں
راہِ فرش و عرش جب ہوتی ہے قدموں کے تلے
زندگی میں وہ گھڑی بارِ دگر آتی نہیں
دیکھ کر لپکے جو ہونٹوں پر تبسّم کے گلاب
کوئی تتلی اب سرِ شاخِ نظر آتی نہیں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s