شب کی ہم زاد اتری ہوئی سربہ سرآنگنوں میں ملی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
کہر سی نامرادی کی صبحِ سفرآنگنوں میں ملی
شب کی ہم زاد اتری ہوئی سربہ سرآنگنوں میں ملی
کھنچ رہا تھا پرندہ قفس سے نکل کر قفس کی طرف
تھی نہ قابل یقیں کے جو ایسی خبر آنگنوں میں ملی
ریزہ ریزہ بکھرتے گئے، جتنے اوراق تھے امن کے
فاختہ پھڑپھڑ اتی ہوئی مشت بھر آنگنوں میں ملی
مکر و فن کو نہ جس کی عروسی پھبن اک نظر بھا سکی
مانگ جس کی اجاڑی گئی وہ سحر،آنگنوں میں ملی
نیّتِ بد کہ میراث اہلِ ریا تھی، سکوں لُوٹنے
خرمنِ آرزو میں مثالِ شرر آنگنوں میں ملی
پچھلی رت کے دباؤ سے آنسو ہوا تک سے رسنے لگے
شکل احوال کی صورتِ چشمِ تر آنگنوں میں ملی
پو پھٹے پر بھی ماجدؔ نہ لے نام ٹلنے کا، آسیب سی
دہشتِ جبر جو شب کے پچھلے پہر آنگنوں میں ملی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s