دشت میں رہ کر چیتے کو خونخوار کہیں، کیا کہتے ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
زورآور کو ہم وجہِ آزار کہیں، کیا کہتے ہو
دشت میں رہ کر چیتے کو خونخوار کہیں، کیا کہتے ہو
بِن شعلوں کے جسموں جسموں جس کی آنچ سمائی ہے
بے آثار ہے جو، اُس نار کو نار کہیں، کیا کہتے ہو
بہرِ نمونہ کھال جہاں ادھڑی ہے کچھ کمزوروں کی
اُس دربار کو جَور کا ہم تہوار کہیں،کیا کہتے ہو
وہ بے گھر تو اِس رت جا کر اگلی رت لوٹ آتی ہیں
سکھ سپنوں کو ہم کونجوں کی ڈار کہیں، کیا کہتے ہو
یہ تو لہو کے چھینٹوں سے کچھ اور بھی نور بکھیرے گی
صبحِ ستم کو ماجد! شب آثار کہیں، کیا کہتے ہو
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s