اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
کس کس کے لئے تھا وہ سبب راحتِ جاں کا
اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا
نخچیر کا خوں خاک میں کیوں جذب ہوا تھا
لاحق یہی احساس تھا چیتے کو زباں کا
کھو جانے لگے سُر جو لپکتے تھے فضا میں
پھر اب کے گلا سُوکھ چلا جُوئے رواں کا
دی دھاڑ سنائی ہمیں وحشت کی جدھر سے
رُخ موڑ دیا ہم نے اُسی سمت کماں کا
اوروں کو بھی دے کیوں نہ دکھائی وہ ہمِیں سا
جس خطۂ جاں پر ہے گماں باغِ جناں کا
سوچا ہے کبھی ہم سے چلن چاہے وہ کیسا
جس خاک کا برتاؤ ہے ہم آپ سے ماں کا
کیوں گھر کے تصّور سے اُبھرتا ہے نظر میں
نقشہ کسی آندھی میں گِھرے کچّے مکاں کا
بولے گا تو لرزائے گا ہر قلبِ تپاں کو
ماجدؔ نہ بدل پائے گا انداز فغاں کا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s