ہم انسانوں ہی جیسے ہیں خدایا کیوں کرم تیرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
کسی پر ہیں زیادہ اور کہیں احساں ہیں کم تیرے
ہم انسانوں ہی جیسے ہیں خدایا کیوں کرم تیرے
ہمیں ہی کیا؟ سرِ آفاق اک نیچا دکھانا تھا
ہمارے حق میں، کیا لکّھا کئے، لوح و قلم تیرے
نجانے کیوں کریں تضحیک، اِک اِک بانجھ خطّے کی
زمیں پر جس قدر بھی کھیت ہیں، شاداب و نم تیرے
گدا کے ہاتھ میں کشکول ہی تیرا نہیں ورنہ
چھلکتے جام ہیں جتنے یہاں، تیرے ہیں، جم تیرے
کسی نے اِس کی نسبت آج تک تجھ سے نہیں مانی
قصیدے لکھ رہا ہے گرچہ ماجدؔ دمبدم تیرے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s