کوئی جھونکا، کوئی مژدہ خوشی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
نہ آنے دے یہ موسم بے دلی کا
کوئی جھونکا، کوئی مژدہ خوشی کا
عبادت اور کی، قبلہ کہیں اور
عجب انداز نکلا بندگی کا
قد و قامت پہ نازاں ہے جو شعلہ
لگے چربہ اُسی سرو سہی کا
جہاں کُھل کھیلنے آئے تھے ژالے
وہیں تھا اِک گھروندا بھی کسی کا
گراں مایہ ہے ربطِ بے غرض بھی
یہ چنبیلی نشاں ہے آشتی کا
نہ جانے کب چلن اپنا بدل لے
بھروسہ کیا ہے ماجد آدمی کا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s