نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں، خیال نہ تھا
نظر میں تھا پہ ترا ہی، وُہ اک جمال نہ تھا
لبوں پہ جان تھی پھر بھی ہماری آنکھوں میں
ستم گروں سے بقا کا کوئی سوال نہ تھا
ٹھہر سکا نہ بہت تیغِ موج کے آگے
ہزار سخت سہی، جسم تھا یہ ڈھال نہ تھا
غضب تو یہ ہے کہ تازہ شکار کرنے تک
نظر میں گُرگ کی، چنداں کوئی جلال نہ تھا
یہ ہم کہ پست ہیں، گُن تھے بھی گر تو پاس اپنے
یہاں کے، اوج نشینوں سا کوئی مال نہ تھا
ہمیں ہی راس نہ ماجدؔ تھی مصلحت ورنہ
یہی وُہ جنس تھی، جِس کا نگر میں کال نہ تھا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s