مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
تمہارے ٹھاٹھ بھی، اپنی جگہ سارے، بجا جاناں
مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں
ہماری آن جائے، ربطِ باہم میں کہ جاں جائے
نہیں ہٹ کر اب اس سے، کوئی رستہ دوسرا جاناں
جہاں بھی تم نے دیکھا والہانہ، ہم یہی سمجھے
کماں سے تیر نکلا، اور نشیمن کو چلا جاناں
اَب اُس تنکے کو بھی، مُٹھی میں دریا نے کیا اپنی
ازل سے ڈوبنے والوں کا تھا جو، آسرا جاناں
مہک کا اور صبا کا تھا ملن، گاہے ملاپ اپنا
دلانے یاد آتی ہے ہمیں، کیا کچھ صبا جاناں
اُسی کی بُھربُھری بنیاد سے چمٹا ہے اب تک یہ
وُہی جو قول ماجدؔ کو، کبھی تم نے دیا جاناں
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s