مّدتوں سے وُہ کبوتر کبھی آئے، نہ گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
جن کے لائے ہوئے سندیس، بھُلائے نہ گئے
مّدتوں سے وُہ کبوتر کبھی آئے، نہ گئے
ہم نے کشتی کے اُلٹنے کی، خبر تو دے دی
اِس سے آگے تھے جو احوال، سُنائے نہ گئے
جس میں خود پھول بنے رہتے تھے، اہلِ خانہ
اَب کے اُس کُنج میں، گلدان سجائے نہ گئے
جانے بارش، نہ پرندوں کی برستی کیا کیا
تِیر ترکش میں جو باقی تھے، چلائے نہ گئے
کب منانے اُنہیں آئے گا، بچھڑنے والا
وُہ جنہیں، ضبط کے آداب سکھائے نہ گئے
آنکھ میں کرب اُتر آیا، شراروں جیسا
اشک روکے تھے مگر، زخم چھپائے نہ گئے
وُہ کہ تھا بادِ صبا، دے گیا جاتے جاتے
وُہ بگولے، کہ تصّور میں بھی لائے نہ گئے
اُس کے جانے سے، چھتیں گھر کی اُڑی ہوں جیسے
سر سلامت تھے جو، ژالوں سے بچائے نہ گئے
دل میں گر ہیں تو ارادے ہیں، بقا کے ماجدؔ
یہ وُہ خیمے ہیں، جو دشمن سے جلائے نہ گئے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s