مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
میں قفس میں ہوں کہ سرِچمن مرے ماہ و سال نہ دیکھنا
مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا
یہی سوچنا کہ شکست میں مری اپنی کم نظری تھی کیا
وُہ کہ محھ سے ہے جو چلی گئی وُہی ایک چال نہ دیکھنا
مرے ہونٹ سی کے جواب میں وُہی کچھ کہو کہ جو دل میں ہے
مری آنکھ میں جو رُکا ہوا ہے وُہی سوال نہ دیکھنا
جو رہیں تو زیبِ لب و زباں مرے جرم، میرے عیوب ہی
وُہ کہ خاص ہے مری ذات سے کوئی اک کمال نہ دیکھنا
یہی فرض کر کے مگن رہو کہ مری ہی سرخیٔ خوں ہے یہ
یہ جو ضرب ضرب لہو ہوئے کبھی میرے گال نہ دیکھنا
کوئی حرف آئے توکس لئے کسی رُت پہ ماجدِؔ خوش گماں
یہ تنی ہے جو سرِ ہر شجر کبھی خشک چھال نہ دیکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s