لگتا ہے یہ دل، تخت نشیں ہونے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جب سے وُہ بدن، اپنے قریں ہونے لگا ہے
لگتا ہے یہ دل، تخت نشیں ہونے لگا ہے
وُہ پاس ہے جس دم سے، منوّر ہے نظر اور
آنگن ہے کہ خود، ماہِ مبیں ہونے لگا ہے
پھر دیکھ پرندوں کی اُڑانوں میں، ٹھٹھک ہے
کُچھ سانحہ، پھر زیرِ زمیں، ہونے لگا ہے
قشقہ ہے غلامی کا یہی، نام ہمارے
ظلمت کا عَلم، زیبِ جبیں ہونے لگا ہے
ماجدؔ ہو طلب، گرگ سے کیا، لُطف و کرم کی
سوچو تو بھلا، ایسا کہیں ہونے لگا ہے
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s